
خوبصورت پتھر — جاوید خوشحال خان کی ایک غور و فکر انگیز تحریر
میں جہاں بیٹھا ہوں یہ ایک چھوٹا سا کھلا باغیچہ ہے۔ کوئی بہت بڑا پارک نہیں، بس چند بینچیں، گھاس اور درمیان میں ایک کیاری۔ میرے پیچھے ایک بڑی عمارت ہے۔ شیشے والی، اونچی، صاف ستھری۔ شام کے وقت اس کی لائٹیں جلتی ہیں تو وہ اور بھی خوبصورت لگتی ہے۔
اور میرے بالکل سامنے سڑک ہے۔ سڑک کیا ہے، گاڑیوں کا ایک ریلا ہے۔ دائیں سے بائیں، بائیں سے دائیں۔ ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔ کسی کو دیر ہو رہی ہے، کوئی جلدی میں ہے۔ ہارن، روشنیاں، ایک شور جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اس سڑک کے اس پار چیڑ کے درخت ہیں۔ لمبے، سیدھے، ایک قطار میں۔ میں دیر سے انہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ ایسے کھڑے ہیں جیسے کسی بادشاہ کے دربار میں نوکر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ خاموش، ادب سے۔ اور ان دو قطاروں کے بیچ جو سڑک جا رہی ہے، اس پر گاڑیاں ایسی لگتی ہیں جیسے بادشاہ خود پریشانی میں ٹہل رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: محفل دیرینہ
تب میرے ذہن میں ایک بات آئی۔ یہ جو گاڑیاں ہیں، یہ ہماری زندگی ہے۔ اور یہ جو درخت ہیں، یہ دنیا ہے۔ ہم سب بھاگ رہے ہیں، دنیا کھڑی دیکھ رہی ہے۔
پیچھے والی عمارت کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا ماضی یاد آتا ہے۔ ہم نے بھی ایسی ہی کوئی عمارت بنائی تھی اپنے ذہن میں۔ بڑی بڑی خواہشوں کی۔ وہ عمارت آج بھی کھڑی ہے، لیکن ہم اس سے باہر نکل آئے ہیں۔ اب ہم اس باغیچے میں ہیں۔ یہ باغیچہ حال ہے۔ نہ ماضی جتنا مضبوط، نہ مستقبل جتنا شور والا۔ بس ایک چھوٹی سی جگہ جہاں ہم تھوڑی دیر سانس لے سکتے ہیں۔
سامنے والا سمندر، وہ مستقبل ہے۔ ہر گاڑی ایک خواہش ہے۔ دیکھو وہ سفید گاڑی کتنی تیزی سے نکلی۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے اسے ضرور کوئی بڑی منزل ملنے والی ہے۔ اور وہ پرانی سی بوجھ سے بھری گاڑی، وہ بھی اسی رفتار سے جا رہی ہے۔ یہاں فرق نہیں ہے۔ سب کو جانا ہے۔ یہاں رکنا منع ہے۔ جو رک گیا، اسے پیچھے سے ہارن مار کر ہٹا دیا جائے گا۔ زندگی کا بھی یہی اصول ہے۔
میں زیادہ دیر سے چیڑ کے درختوں کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ درخت عجیب ہیں۔ یہ کب سے یہاں ہوں گے؟ دس سال، بیس سال؟ انہوں نے کتنا کچھ دیکھا ہوگا۔ کتنے حادثے، کتنی شادیوں کے قافلے، کتنی ایمبولینسیں۔ کتنے لوگ اس سڑک سے گئے ہوں گے جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ درخت سب جانتے ہیں، لیکن بولتے نہیں۔ ان کا کام کھڑے رہنا ہے۔
دنیا بھی ایسی ہی ہے۔ ہم ناچتے ہیں، روتے ہیں، لڑتے ہیں، جیتتے ہیں۔ دنیا بس دیکھتی ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کوئی مر گیا تو چیڑ کے پتے تھوڑے سے ہل جائیں گے، دو چار لوگ افسوس کریں گے، پھر وہی شور، وہی گاڑیاں۔
اور ان درختوں کے بیچ جو خالی جگہ ہے، وہاں مجھے وقت نظر آتا ہے۔ وقت ہی وہ بادشاہ ہے۔ وہ ٹہل رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہم نے وقت کو پکڑ لیا ہے۔ گھڑی باندھ لی، کیلنڈر بنا لیا۔ لیکن وقت ہمیں دیکھ کر مسکراتا ہے۔ وہ کہتا ہے تم بھاگ لو، میں یہیں ہوں۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس سڑک پر کود پڑتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی گاڑی پکڑ لیتے ہیں۔ سوچتے ہیں تیز جائیں گے تو جلدی پہنچیں گے۔ لیکن یہ سڑک ختم کہاں ہوتی ہے؟ یہ صرف موڑ بدلتی ہے۔
کچھ لوگ مجھ جیسے ہیں۔ وہ اس باغیچے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ نہ پیچھے والی عمارت میں جاتے ہیں، نہ سامنے والی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ بس بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔ لوگ انہیں سست کہتے ہیں، نکما کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے وہی لوگ اصل بات سمجھتے ہیں۔ بھاگنا ہی سب کچھ نہیں ہے، کبھی کبھی رک کر دیکھنا بھی ضروری ہے۔
شام گہری ہو رہی ہے۔ عمارت کی ساری لائٹیں جل گئی ہیں۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس سے سڑک پر ایک نیا دن سا نکل آیا ہے۔ چیڑ کے درخت اب کالے سائے لگ رہے ہیں۔
میں نے جیب سے ایک چھوٹا سا پتھر نکالا ہے۔ میں نے اسے اس کیاری میں رکھ دیا ہے۔ میرے بیٹھنے کا نشان۔ کل کوئی اور یہاں آ کر بیٹھے گا، اسے یہ پتھر ملے گا۔ اور پھر وہ بھی شاید اسی عمارت، اسی سڑک اور انہی درختوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگے۔
زندگی شاید اسی کا نام ہے۔ ایک پتھر رکھنا اور چلے جانا۔۔لیکن مزا تب ہے کہ ایک خوبصورت پتھر رکھ کر جائیں جس کے دیکھنے سے ہی آنے والوں کو سکون اور چاشنی میسر ائے



