
ڈگری ہاتھ میں مگر کیریئر کی سمت معلوم نہیں — یہی آج کے نوجوان کا اصل مسئلہ ہے۔
کل ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ ہاتھ میں ڈگری، چہرے پر تھکن ؛اور کیریئر کی سمت کا کوئی پتا نہیں۔ دو سال سے نوکری ڈھونڈ رہا ہے، کہیں بات نہیں بن رہی۔ کہنے لگا، ”سر، اس ڈگری کا کیا فائدہ؟“میں نے پوچھا، ”کرنا کیا چاہتے ہو؟“
خاموشی۔ پھر بولا، ”یہی تو سمجھ نہیں آ رہا۔“
میں نے پوچھا، ”یہ ڈگری کیوں لی تھی؟“ کہنے لگا، ”سب نے کہا تھا کامرس میں اسکوپ ہے۔“
پینتیس سال سے میں طلبہ اور نوجوانوں سے مل رہا ہوں، اور یہ کہانی ہر سال دہرائی جاتی ہے ؛ صرف چہرے بدل جاتے ہیں۔ نوجوان ڈگری لے لیتا ہے، مگر کیریئر کی سمت کبھی طے ہی نہیں کرتا۔ پھر جب نوکری نہیں ملتی تو وہ ڈگری کو کوستا ہے، حالانکہ اصل قصور ڈگری کا نہیں ہوتا۔
ہم بچوں سے پوچھتے ہیں، ”کتنے نمبر آئے؟“ کبھی یہ نہیں پوچھتے، ”جانا کدھر ہے؟“ اور کیریئر کی سمت کے بغیر ڈگری ایسی ہی ہے جیسے بغیر منزل کے گاڑی ؛ جتنی بھی اچھی ہو، کہیں پہنچاتی نہیں۔ ڈگری منزل نہیں، سواری ہے۔ سواری سے پہلے منزل طے ہوتی ہے۔
کیریئر کی سمت کیوں نہیں طے ہوتی؟
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ہمارا ”اسکوپ“ کا کلچر ہے۔ بچہ جس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اسے چھوڑ کر وہ شعبہ چنتا ہے جس میں ”اسکوپ“ بتایا جاتا ہے۔ اسکوپ بدلتے دیر نہیں لگتی، مگر بچے کے چار قیمتی سال اسی ایک فیصلے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ پھر وہی بچہ ڈگری لے کر بازار میں کھڑا ہوتا ہے اور پوچھتا ہے، ”اب کیا کروں؟“ اسے یہ کسی نے نہیں بتایا تھا کہ ڈگری سے پہلے کیریئر کی سمت طے کرنا ضروری ہے۔
دوسری وجہ والدین کی خواہشات ہیں۔ ہر ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کامیاب ہو، مگر کامیابی کی تعریف اکثر ان کی اپنی ادھوری خواہشات سے بنتی ہے۔ بچہ باپ کا خواب پورا کرنے نکلتا ہے، اور اپنا خواب کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ والدین کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا ؛ مگر نیت اچھی ہونے سے فیصلہ درست نہیں ہو جاتا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم بچوں سے صحیح سوال کبھی پوچھتے ہی نہیں۔ ہم پوچھتے ہیں، ”کیا بنو گے؟“ – ڈاکٹر، انجینئر، افسر۔ مگر یہ نہیں پوچھتے، ”کس کام میں تمھیں مزہ آتا ہے؟“ پہلا سوال عہدے کے بارے میں ہے، دوسرا انسان کے بارے میں۔ اور کیریئر انسان کا ہوتا ہے، عہدے کا نہیں۔ جو بچہ لوگوں سے بات کرنا پسند کرتا ہے، اسے زبردستی لیبارٹری میں بٹھا دینا اس کے ساتھ ناانصافی ہے، چاہے اس کے نمبر کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔
تین سوال جو کیریئر کی سمت دکھا سکتے ہیں
اس نوجوان سے میں نے تین سوال کیے۔ پہلا: کون سا کام کرتے ہوئے تمھیں وقت کا پتا نہیں چلتا؟ یہ سوال دلچسپی کا پتا دیتا ہے ؛جس کام میں وقت بھول جائے، وہی کام آپ کی فطرت کے قریب ہے۔ دلچسپی وہ ایندھن ہے جو مشکل دنوں میں بھی آپ کو چلائے رکھتا ہے۔
دوسرا: کس کام میں لوگ تم سے مشورہ لیتے ہیں؟ یہ سوال صلاحیت کا پتا دیتا ہے۔ لوگ اسی سے مشورہ لیتے ہیں جس میں وہ کچھ جانتا ہو، چاہے اسے خود اس کا احساس نہ ہو۔ اکثر ہماری صلاحیتیں دوسروں کو ہم سے پہلے نظر آ جاتی ہیں۔
تیسرا: کون سا کام تم مفت میں بھی کرنے کو تیار ہو؟ یہ سوال لگن کا پتا دیتا ہے۔ جس کام کے لیے آپ معاوضے کے بغیر بھی تیار ہوں، وہی کام مشکل وقت میں آپ کا سہارا بنے گا، کیونکہ وہاں آپ پیسے کے لیے نہیں، شوق کے لیے کھڑے ہوں گے۔
وہ نوجوان حیران رہ گیا ؛ ان سوالوں پر اس نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ اسے لوگوں سے بات کرنا اور ان کے مسئلے سمجھنا پسند ہے۔ دوست اس سے مشورے لیتے تھے، اور وہ ان کی رہنمائی مفت میں بھی خوشی سے کرتا تھا۔ اسی دن اسے پہلی بار لگا کہ شاید کیریئر کی سمت تدریس یا تربیت کی طرف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: استاد کا ایک جملہ
والدین کیا کریں؟
اگر آپ کے بیٹے یا بیٹی نے ڈگری مکمل کر لی ہے اور وہ پریشان ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ گھبرائیں نہیں اور انھیں بھی گھبرانے نہ دیں۔ ”اور پڑھ لو“ کہنا مسئلے کا حل نہیں ؛یہ صرف فیصلے کو آگے ٹالنا ہے۔ ایک اور ڈگری بغیر سمت کے صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔
ان سے وہ تین سوال کریں۔ جواب فوراً نہ ملے تو کوئی بات نہیں ؛سوچنے کا وقت دیں۔ کیریئر کی سمت ایک دن میں نہیں ملتی، مگر سوچنے کا عمل شروع ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔ جو نوجوان سوچنا شروع کر دے، وہ آدھا راستہ طے کر چکا ہوتا ہے۔
دوسری بات: چھوٹے تجربوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ ایک مہینہ کسی ایک کام میں لگائیں ؛ انٹرن شپ، رضاکارانہ کام، کوئی ہنر سیکھنا۔ دیکھیں دل لگتا ہے یا نہیں۔ کیریئر کی سمت کا فیصلہ کتابوں سے نہیں، تجربے سے ہوتا ہے۔ ایک مہینے کا تجربہ چار سال کی غلط ڈگری سے بہتر ہے۔
تیسری بات: اس شعبے کے لوگوں سے ملوائیں۔ جو کام آپ کرنا چاہتے ہیں، وہ کرنے والوں سے بات کریں۔ ان کی زندگی دیکھیں، ان کے دن کا معمول سمجھیں۔ اکثر صرف یہ دیکھ کر فیصلہ بدل جاتا ہے کہ اس کام کی حقیقت کیا ہے اور خواب کیا تھا۔
اگلا قدم
ایک بات یاد رکھیں: کیریئر کی سمت کا مطلب یہ نہیں کہ ساری زندگی کا نقشہ آج ہی بن جائے۔ مطلب صرف اتنا ہے کہ اگلا قدم ایمانداری سے اٹھایا جائے۔ منزل دور ہو سکتی ہے، مگر پہلا قدم ہمیشہ قریب ہوتا ہے۔ اور جو پہلا قدم درست سمت میں اٹھ جائے، وہ منزل سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
وہ نوجوان جب میرے پاس سے اٹھا تو اس کے چہرے پر وہ تھکن نہیں تھی جو آتے وقت تھی۔ ڈگری وہی تھی، حالات وہی تھے ؛ بس ایک فرق پڑا تھا: اب اسے کیریئر کی سمت مل گئی تھی۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
اگر آپ کا بچہ بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے تو اس سے نمبروں کا حساب بعد میں مانگیے گا ؛پہلے یہ پوچھیے: ”تم کرنا کیا چاہتے ہو؟“ کیریئر کی سمت مل جائے تو ڈگری خود کام آنے لگتی ہے۔

