
"تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد" — نوید بلوچ کی ادبی تحریر۔
وہ کندھے پر جال اٹھائے راجباہ کے کنارے دور تک چلتا گیا۔ اس کے گھر سے کوئی سوا کلومیٹر کی مسافت پر باجرہ کاشت کر دیا گیا تھا اور پرندوں کی آمد و رفت کا تانتا بندھا کھڑا تھا، ساتھ ہی خسارے کا خدشہ چوگرد منڈلا رہا تھا۔
آزادیت کے ہر انگ میں مغلوبیت کی ایک رمق زندہ ہے۔ ذہن پر اداسیت کی چھاپ دیکھتے ہوئے شانتی کو کس زمرے میں دھکیلا جائے؟ پھول بھی تو آزاد ہے مگر آزادی اور وہ بھی کانٹوں کے جھنڈ میں! اس سانحہ میں کتنی کسک ہے کہ پھول کے نرم گالوں میں کانٹا چبھو دیا جائے یا حسین تتلی مکڑی کے جال میں الجھ کر اپنے پروں کو فنا کر بیٹھے۔ یہ زمین پر پھرتے سبھی جاندار بشمول انسان، حقانیت سے آشنا تھوڑی ہیں۔ پیٹ ان کے گلے میں لٹکا دیا گیا ہے اور اب فقط مسافتیں ہیں جن کو مسلسل طے کرتے جانا ہے۔ یعنی بھوک ختم کرنے کے لیے تتلی بے خبری میں خودکشی کر سکتی ہے۔
چڑیا نے مجھ سے مسکرا کر پوچھا، ”یاد ہے تمہیں جب ہر طرف مٹی کے گھر ہوا کرتے تھے؟“
میں نے کہا، ”ہاں، یاد ہے۔“
وہ پھر بولی، ”جانداروں کا اصل مٹی ہے۔ جب مٹی کی کوکھ سے درخت جنم لیتا ہے اور پھر اس کی چھاتی پر چھاؤں نچھاور کرتا ہے، تو یہ کتنی حسین ساعت ہوتی ہے۔ مٹی سے کیا کیا نہیں بنایا گیا! سنو، ہمیں مٹی اتنی محبوب تھی کہ اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔ تک کو بنا دیا گیا، لیکن میں تم سے پوچھتی ہوں، وہ کچے گھر کیوں مسمار کیے گئے؟ وہ پت جھڑ کے موسم میں بارش کی بوندیں جب مٹی کے گھروں پر پڑتی تھیں تو کتنی سوندھی سوندھی خوشبو ہوا میں حائل ہو جاتی تھی، اور ہم خاموش، کانوں (چھپر نما چھت) سے بنی چھت میں اپنے گھونسلے میں گھسے بیٹھے ہوتے تھے۔ جب بارش تھم جاتی تھی تو ہم خوشی سے چہکنے لگتے تھے، لیکن ہمیں کوئی ٹوکتا نہیں تھا۔ مگر وہ چھتیں کیوں زمین بوس کر دی گئیں؟“
میں نے اس سے کہا، ”اے قدرت کی شاہکار حسین چڑیا، سن! مجھے ایک عقلمند شخص نے کہا تھا کہ ’تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد‘۔ یعنی پرندے رسوم و قیود سے بری ہوتے ہیں۔ جو آزاد ہے وہ ہواؤں میں تیر سکتا ہے، درختوں کی ٹہنیوں پر براجمان ہو کر گونج سکتا ہے۔“
میں نے بات جاری رکھی، ”اس نے کہا تھا کہ پرندے آزاد ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنی رضا سے آشیانے بدلتے رہتے ہیں، ایک درخت سے دوسرے درخت پر ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پرندوں کا کام درختوں پر رہنا ہے، ہواؤں میں ناچنا ہے۔ وہ گھروں میں کیوں گھسنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ وہ آزاد ہیں، انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ اور ہم نے کچے گھر ڈھائے ہیں کیونکہ وہ ہمارے اپنے تھے، وہ ان پرندوں کا سرمایہ نہیں تھے۔ یعنی وہ کہنا چاہتے تھے کہ پرندے انسانوں کی نسبت زیادہ آزاد ہیں۔ فکر، دکھ اور زندگی کے تمام مسائل ان سے بہت پرے ہیں۔ وہ ہجرت کرنے کی دقتوں سے عاری ہیں۔ ان کی اڑان ان کے پروں کے سوا کسی کی محتاج نہیں۔“
“اس نے یہ بھی کہا کہ جب میں گھومتے گھومتے پہاڑوں کی چوٹیوں پر نکل جاتا ہوں اور پرندوں کے کئی ٹولوں کو چہکتے پاتا ہوں تو ذہن بھاری ہونے لگتا ہے، پہاڑ آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے میرے پاؤں پہاڑ کے سخت پتھروں نے سختی سے جکڑ رکھے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگاؤں اور پرندوں کے ٹولوں میں جا ملوں اور ان سے کہوں کہ لو، میں تمہاری طرح آزاد ہو گیا! میں تمام رسوم و قیود سے بری ہو گیا، اب میں ایک آزاد قافلے کا فرد ہوں، میری آزادی کو کوئی پامال نہیں کر سکتا۔ جب ذہن آزادی کی بھیک مانگنے لگے اور جسم زندگی کی مشقتوں میں بندھا پڑا ہو، تو کوئی خبر نہیں سوجھتی کہ مجھے کس سمت چلنا ہے، کس ڈگر پر مڑنا ہے۔“
اس نے مجھے ٹوکا۔ اس کی آنکھیں جھک چکی تھیں اور آہستگی سے اس نے بولنا شروع کیا:
”اس نے صحیح کہا، ہم ہر قسم کی رسوم و قیود سے بری ہیں۔ ہم ہواؤں میں گشت کر سکتے ہیں، ہم درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھ کر چہک سکتے ہیں، ہم پہاڑوں کی چوٹیاں سر کر سکتے ہیں۔ مسافتیں طے کرنا ہماری زندگی کا معمول ہے، لیکن کیا تم لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ دراز مدت سے ہم ساتھ رہتے آ رہے ہیں؟ تمہیں یاد ہے کہ یہ درخت ہم نے مل کر اگائے تھے؟ وہ کیا تم لوگ بھول گئے کہ گھر بناتے وقت ہم سب نے مل کر مٹی ڈھوئی تھی؟“
وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر بولی، ”میری آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں جب مجھے مٹی کی جگہ کنکریٹ دکھتی ہے۔ اور جب ساون آتا ہے تو فضا میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو کے وہ ہیولے نہیں اٹھتے، اور وہ کانوں (چھپر نما چھت) سے بنی چھت پر پڑتی بارش کی بوندوں سے پیدا ہوتی آواز کہیں سنائی نہیں پڑتی۔ وہ درخت کب کے کٹ چکے ہیں جن کو ہم نے بڑی مشقت سے اگایا تھا، اور ہمارے گھونسلے دیمک چاٹ گئی ہے۔ تم کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہجرت کرنا صرف ایک جگہ سے اڑان بھر کر دوسری جگہ منتقل ہو جانا ہوتا ہے؟ اپنے آشیانے کی یادیں ہمارے ذہن میں چکر کاٹتی رہتی ہیں۔ وہ مٹی، وہ درخت بھلا دینا اس قدر آسان ہے نہیں جس قدر تم لوگ سمجھتے ہو۔ اور وہ جگہ ہم کیسے بھولیں جہاں ہم نے اپنے پیاروں کو دفن کیا تھا؟“
اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا، ”ہمارا اس دھرتی پر کوئی سرمایہ نہیں ہے۔ چاہے درختوں کی جھولیاں ہماری وجہ سے آباد ہیں، لیکن ہم راہی ہیں، ہمارا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ ہمیں جہاں جگہ میسر آتی ہے وہیں خیمے دھر دیتے ہیں۔“
وہ خاموش ہو گئی اور اس نے اپنا منہ پھیر لیا۔
ادھر، وہ قدرے پھرتی سے کھیتوں میں اترا اور لمبی کیاری میں جال بچھا دیا۔ وہ جال بچھا کر درختوں کی اوٹ میں چھپ گیا اور تقریباً ایک گھنٹے بعد جب اس نے جال اٹھایا تو اس میں کئی کبوتر اور چڑیاں پھنس چکی تھیں۔
یہ دیکھتے ہی میرے ذہن میں منڈلانے لگا کہ…
”تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد…“


