اجنبی - نوید بلوچ
اڑتی زمین، بکھرتے لفظ، پھٹتا ذہن، گھورتی ویران آنکھیں اور نحیف جسم پتلی کمزور ٹانگوں پر لدا ہوا۔ تیز گرم ہوا میں دوپٹے کو دونوں ہاتھوں سے تھاما ہوا اور گرد بالوں میں جمی ہوئی۔ لاچار جسم کو قدرے تیز چلانے کی تگ ودو کرتے پاؤں۔
مئی کی تیز گرمی میں اجنبیت سے گھورتی عورت اور طویل سفر کو منٹوں میں طے کرنے کی جرات کو انڈیلنے کی کوشش کرتا ذہن۔
دور سے گزرتے موٹر سائیکل سوار کو ہاتھ سے اشارہ کر کے ساتھ ہو لینے کی فکر، نرم زمین کی تہوں میں سمو چکی سورج کی تپش پاؤں کو جھلساتے ہوئے، چہرے پر گھبراہٹ کی چھاپ اور پاؤں پر تیرتی مٹی اور مٹی کے نیچے جلی جلد سے رستا خون۔ طویل راستہ، اجنبی سفر اور چلنے سے عاری پسینے میں شرابور نحیف جسم، ویران پتھرائی آنکھیں اور آنکھوں میں دکھتی اڑتی زمین، بکھرتے لفظ اور پھٹتا ذہن۔
ویران زمینوں کے بیچ کچی سڑک پر پاؤں کھردری سخت مٹی سے کسک محسوس کرتے ہوئے۔ قدرے فاصلے پر کھڑے موٹر سائیکل سوار کا سورج کی تیز روشنی میں بالوں سے خالی چمکتا سر اور دھوپ سے اکتائی مڑ مڑ کے دیکھتی آنکھیں، بوجھل قدم، سخت راستہ اور اس لاچار جسم کو گھسیٹ کر چلتی بوڑھی عورت، نحیف جسم کو نوچ کھانے کے لیے دوڑتی تیز گرم ہوا اور جھلستے جسم سے نکلتا محسوس ہوتا دھواں۔
موٹر سائیکل کو قریب پاتے ہی قدرے تیزی سے اٹھتے قدم اور جھرجھری محسوس کرتا جسم، ذہن میں دوڑتی خوشی کی ایک باریک لہر اور لہر سے لپٹ کر جیتا کمزور جسم جس کی جلد سے ہڈیاں نظر آ رہی ہیں۔
طویل انتظار، سخت موسم اور لاچار جسم، موٹر سائیکل سوار بوڑھی عورت کو گھورتا ہے۔ چہرے کی ہڈیوں میں گھٹی آنکھوں پہ پلکیں پہاڑ کی طرح بھاری دکھائی دیتی ہیں، آنکھیں دھیرے سے کھلتی ہیں اور پھر کواڑ بند ہو جاتے ہیں۔
موٹر سائیکل کی اونچی سیٹ پر براجمان ہونے سے قاصر نحیف جسم اور تگودو کرتی لڑکھڑاتی ٹانگیں، موٹر سائیکل سوار کی آنکھوں سے جھلکتا غصہ اور ہچکچاہٹ سے چڑھنے میں مشغول لاچار بدن۔ ایک اجنبی شخص، ویران منظر، سخت گرم موسم اور طویل سفر پر روانہ ایک بوڑھی عورت موٹر سائیکل پر سوار ہونے سے قاصر۔
موٹر سائیکل سوار منہ بسورتے ہوئے بوڑھی عورت کو اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھاتا ہے (وہ کراہتی ہے، اس کا جسم دکھنے لگتا ہے، اس کی ہڈیوں سے آوازیں آتی ہیں) اور جلدی جلدی اسے موٹر سائیکل پر سوار کر دیتا ہے۔ ایک طویل سفر کا آغاز ہو چکا جس کی کوئی خبر نہیں، جس کی کوئی منزل نہیں۔ موٹر سائیکل دوڑتی ہے، خیالات ذہن میں بھاگتے ہیں، بوڑھا جسم جھکتا محسوس ہوتا ہے، وہ کراہتی ہے اور پہلی بار موٹر سائیکل سوار کے کانوں پر آواز پڑتی ہے: “آہستہ”۔
وہ موٹر سائیکل قدرے دھیرے کرتا ہے اور پوچھتا ہے:
“تمہیں کہاں جانا ہے؟”
“تمہیں تمہارا راستہ معلوم ہے؟”
کھلے ویرانوں کے بیچ پڑی ویران سڑک جس پر زندگی گزرنے سے گریز کرتی ہے، گرم ہوا سے خون ابلنے لگتا ہے، جسم جھلس جاتا ہے اور آنکھوں سے نور دھوپ نوچ لیتی ہے، ایک بوڑھی نحیف عورت ان راستوں سے کیسے واقف ہو سکتی ہے؟ اس ڈگر پر کون ٹک سکتا ہے جس پر سے کتا بھی دم دبائے بھاگ جاتا ہے۔
وہ دھیرے سے بولتی ہے: “تم کون ہو؟ یہ راستہ کدھر کو جاتا ہے؟”
موٹر سائیکل سوار بولتا ہے: “اجنبی، سب کچھ اجنبی۔۔۔۔”
وہ پھر بولتی ہے، اس کا منہ پہلے کی نسبت قدرے زیادہ کھلتا ہے، اس کی آواز میں گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے، وہ بولتی ہے:
“تو اجنبی ہے؟ یہ شکلیں بھی اجنبی ہیں؟ یہ تم نے ساتھ کس کو بٹھا رکھا ہے؟ ہائے مجھے کوئی اٹھا کر لے گیا۔۔۔۔
وہ بلا میرے جسم کو نوچے جا رہی ہے۔۔۔۔۔
ہائے میرے بال۔۔۔۔۔
یہ کون ظالم ہے، ایک بوڑھی عورت کا لحاظ ہی نہیں کرتا؟ مجھے یہیں اتار دو۔۔۔۔۔”
اسے موٹر سائیکل سوار سے خوف آنے لگتا ہے اور اس کے سامنے کئی شکلیں نمودار ہونے لگتی ہیں، وہ خود کو خوفناک بلاؤں کے بیچ گھری ہوئی محسوس کرتی ہے اور اس کا جسم ڈر سے کانپنے لگتا ہے۔ شکلیں بڑھنے لگتی ہیں اور اس کی آنکھیں دھندلا جاتی ہیں۔ وہ ایک بار پھر کہتی ہے: “ہائے میرا بدن۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اچانک خاموشی میں ڈوب جاتی ہے اور موٹر سائیکل سوار کی طرف گھور کر دیکھتی ہے اور دھیرے سے پوچھتی ہے: “تو اجنبی ہے؟”
وہ سر ہلاتا ہے، بوڑھی عورت کی چیخ نکلتی ہے، ایک نحیف، لاچار جسم جو طویل سفر کو روانہ ہو چکا تھا، وہ جسم جو گرمی کی شدت کو سہ کر رختِ سفر باندھ چکا تھا، سڑک کی کھردری زمین پر لڑکھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا چھوٹا سا دوپٹہ ہاتھوں سے چھوٹ کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے، نحیف جسم سخت زمین پر اوندھے منہ لیٹ جاتا ہے، موٹر سائیکل سوار ٹھہرتا ہے اور کمزور جسم کو سیدھا کرتا ہے، بوڑھی عورت کی پتھرائی بے نور آنکھیں اسے گھور رہی ہوتی ہیں۔
وہ سوچتا ہے، “میں کون ہوں؟”
اسے خیال آتا ہے:
” ہاں، میں اجنبی ہوں”۔
