
رٹا یا سمجھ؟ — یہ فیصلہ والدین اور اساتذہ کے ہاتھ میں ہے۔
رٹا یا سمجھ — یہ سوال ہر اس گھر میں اٹھتا ہے جہاں کوئی بچہ اسکول جاتا ہے، اور ہر اس کلاس روم میں بھی جہاں کوئی استاد پڑھا رہا ہے۔ ہم میں سے اکثر نے اس سوال کا جواب عملی طور پر دے رکھا ہے، چاہے زبان سے نہ کہا ہو۔ ہمارے نمبر، ہمارے سوال، ہمارا رویہ — سب بتا دیتے ہیں کہ ہم رٹے کو اہمیت دیتے ہیں یا سمجھ کو۔
کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ دسویں جماعت کا ایک لڑکا میرے سامنے بیٹھا تھا۔ پوری کتاب اسے زبانی یاد تھی۔ باب کا نام لو، وہ صفحہ سنانے لگتا۔ تعریفیں سن کر اس کا سینہ چوڑا ہو جاتا۔ استاد خوش تھے، والدین خوش تھے، نمبر بھی اچھے آتے تھے۔
میں نے اس سے کہا، بہت خوب۔ اب ایک بات بتاؤ — یہ جو اصول تم نے یاد کیا ہے، یہ ہماری روزمرہ زندگی میں کہاں کام آتا ہے؟
وہ خاموش ہو گیا۔ چہرے پر وہی گھبراہٹ جو اس وقت ہوتی ہے جب اچانک کوئی انجان سوال پوچھ لیا جائے۔ پھر اس نے کتاب کا وہی صفحہ دہرانا شروع کر دیا جو اسے یاد تھا۔ میں نے روک کر کہا، صفحہ نہیں، سمجھ بتاؤ۔ وہ نہ بتا سکا۔
اس دن مجھے اپنے زمانے کی ایک بات یاد آئی۔ ہمارے ہاں کہا جاتا تھا: پڑھو گے لکھو گے، بنو گے نواب۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا تھا کہ رٹا ہوا علم نواب نہیں بناتا — سمجھا ہوا علم بناتا ہے۔
رٹے کی عادت کہاں سے آتی ہے؟
یہ عادت بچہ خود نہیں بناتا، ہم بناتے ہیں۔ ہمارا امتحانی نظام ایسا ہے جو دہرائی کو انعام دیتا ہے — جو جتنا حرف بہ حرف لکھے، اتنے زیادہ نمبر۔ استاد نصاب کے بوجھ تلے دبا ہے، اس کے پاس ہر بچے کی سمجھ پرکھنے کا وقت نہیں۔ اور گھر میں ہم پوچھتے ہیں: کتنا یاد کیا؟ کبھی یہ نہیں پوچھتے: کیا سمجھا؟
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔ کیوں کرے؟ جب نمبر یاد کرنے سے ملتے ہیں تو سوچنے کی تکلیف کون اٹھائے؟ یوں رٹا یا سمجھ کا فیصلہ عملی طور پر رٹے کے حق میں ہو جاتا ہے — اور ہمیں پتا بھی نہیں چلتا کہ ہم نے یہ فیصلہ کب کیا۔
میں نے ایک اور بچہ بھی دیکھا ہے، اسی اسکول میں۔ اس کے نمبر پہلے لڑکے جتنے اچھے نہیں تھے، مگر وہ ہر بات پر ”کیوں“ پوچھتا تھا۔ استاد کبھی کبھی اس کے سوالوں سے تنگ بھی آ جاتے تھے۔ مگر وہی بچہ جب کوئی نیا سوال سامنے آتا تو حل کر لیتا تھا، کیونکہ اس کے پاس سوچنے کا ڈھانچہ تھا، صرف یادداشت نہیں۔ یہی رٹا یا سمجھ کا اصل فرق ہے — ایک ذخیرہ بناتا ہے، دوسرا سوچ۔
رٹا ہوا علم اور سمجھا ہوا علم
رٹا یا سمجھ کا سوال دراصل یہ ہے: علم ذخیرہ کرنا ہے یا اوزار بنانا ہے؟ رٹا ہوا علم ذخیرہ ہے، سمجھا ہوا علم اوزار۔ ذخیرہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے — امتحان کے اگلے ہفتے وہی باب بھول جاتا ہے جو رات بھر جاگ کر یاد کیا تھا۔ اوزار ساتھ رہتا ہے۔ جو بچہ اصول سمجھ لیتا ہے، وہ زندگی بھر اسے استعمال کر سکتا ہے، چاہے صورت حال بدل جائے۔
وہ پہلا لڑکا مجھے برسوں بعد دوبارہ ملا۔ انٹرمیڈیٹ میں اسے مشکل پیش آئی — وہاں رٹا کام نہ آیا۔ اسے نئے سرے سے سیکھنا پڑا کہ پڑھنا کیسے ہے۔ اس نے مجھے کہا: سر، کاش کسی نے پہلے بتا دیا ہوتا کہ سمجھنا بھی کوئی چیز ہے۔ اس کی یہ بات آج تک میرے کانوں میں گونجتی ہے۔
یہی فرق عملی زندگی میں بھی ہے۔ ڈاکٹر ہو یا انجینئر، استاد ہو یا کاروباری — ہر میدان میں وہی آگے بڑھتا ہے جس نے بنیاد سمجھ کر رکھی ہو۔ نوکری کے انٹرویو میں کتابی جواب نہیں مانگا جاتا، سوچ مانگی جاتی ہے۔ اور سوچ رٹے سے نہیں آتی۔
والدین کیا کریں؟
پہلی تبدیلی اپنے سوال میں لائیں۔ ”کتنا یاد کیا؟“ کی جگہ پوچھیں: ”آج کیا سمجھا؟“ یہ ایک جملہ بچے کو بتاتا ہے کہ اس گھر میں سمجھ کی قدر ہے، صرف یادداشت کی نہیں۔ بچے وہی کرتے ہیں جس کی قدر کی جائے۔
دوسری بات: بچے کے ”کیوں“ کا خیرمقدم کریں۔ بچہ جب پوچھتا ہے کہ یہ ایسا کیوں ہے، تو وہ سوچ رہا ہوتا ہے۔ اسے چپ کرانا سوچ کو چپ کرانا ہے۔ چاہے جواب آپ کو فوراً نہ آئے — مل کر ڈھونڈیں۔ یہی سیکھنے کا اصل عمل ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں رٹا یا سمجھ کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
تیسری بات: پڑھائی کو زندگی سے جوڑیں۔ بازار میں حساب، باورچی خانے میں پیمائش، بجلی کے بل میں یونٹ — ہر جگہ اسکول کے اسباق چھپے ہیں۔ جو بچہ دیکھتا ہے کہ علم کام آتا ہے، وہ اسے یاد کرنے کے بجائے سمجھنے لگتا ہے۔ اور جو سمجھتا ہے، وہ بھولتا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بیس سالوں میں کیرئیر کے نئے رجحانات
اساتذہ کے لیے ایک گزارش
ہر سبق میں ایک ”کیوں“ ضرور پوچھیں۔ بچے سے کہیں کہ اصول اپنے الفاظ میں سمجھائے — اپنے الفاظ میں بیان کرنا سمجھ کی سب سے سچی آزمائش ہے۔ جو بچہ اپنے الفاظ میں سمجھا سکتا ہے، وہی واقعی سمجھا ہے۔
غلط جواب پر ہنسیں نہیں۔ غلط جواب وہ دروازہ ہے جہاں سے سمجھ داخل ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھار ایسا سوال دیں جس کا جواب کتاب میں نہ ہو — تاکہ بچہ سوچنے پر مجبور ہو۔ یہی وہ مشق ہے جو بچے کو رٹا یا سمجھ کے درمیان درست انتخاب سکھاتی ہے۔ امتحان میں نمبر تو کتابی جواب سے بھی آ جائیں گے، مگر زندگی کے امتحان کی تیاری اسی ”کتاب سے باہر“ والے سوال سے ہوتی ہے۔
آخری بات
رٹا یا سمجھ کا فیصلہ دراصل ہمارے ہاتھ میں ہے — والدین کے، اساتذہ کے۔ بچہ وہی کرے گا جس کی ہم قدر کریں گے۔ اگر ہم نمبروں کی قدر کریں گے تو وہ رٹے گا۔ اگر ہم سمجھ کی قدر کریں گے تو وہ سوچے گا۔
رٹا امتحان میں نمبر دلا سکتا ہے، مگر زندگی کا امتحان رٹے سے نہیں نکلتا۔ جو بچہ آج سوال پوچھتا ہے، وہ کل جواب تلاش کرنا سیکھ جاتا ہے۔ جو سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ دیر سے سہی مگر دور تک جاتا ہے۔ اور جو صرف رٹتا ہے، وہ جلد تھک جاتا ہے۔
رٹا یا سمجھ؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔


