2050 کی دنیا
2050 کی دنیا: خواب، امکانات اور حقائق کا بدلتا منظرنامہ
مستقبل ہمیشہ سے انسانی تجسس کا مرکز رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس تیزی سے مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور خلائی سائنس نے انگڑائی لی ہے، اس نے کل کے خیالی تصورات کو آج ہی ہمارے روزمرہ کا حصہ بنا دیا ہے۔ اب سے چند دہائیاں بعد، یعنی سال 2050 تک، کرۂ ارض کی زندگی کس نہج پر ہوگی، یہ سمجھنے کے لیے پرانی پیشین گوئیوں پر نئے زاویے سے نظر ڈالنا ضروری ہے۔ بہت سی باتیں جو پہلے دور کی بات لگتی تھیں، آج ان کی بنیاد پڑ چکی ہے، اور کچھ اندازے زمینی حقیقت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
دنیا کی آبادی اس وقت تیزی سے نو ارب کے ہندسے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں ہندوستان آبادی کے لحاظ سے چین سے آگے نکل چکا ہے۔ اس صدی کے وسط تک دنیا کی غالب اکثریت بڑے شہروں میں آباد ہوگی، جس کے نتیجے میں روایتی افقی بستیوں کی جگہ وسیع و عریض عمودی شہر لے لیں گے۔ ملٹی لیول ایکسپریس ویز، عمارتوں کے باہمی فضائی راستے اور عمارتوں کے اندر کی جانے والی ‘ورٹیکل فارمنگ’ مستقبل کے شہری انفراسٹرکچر کا لازمی جزو بنیں گے۔ اس بڑھتی ہوئی گنجانی کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی سنگین چیلنج بن چکی ہیں، جہاں سمندروں کی بڑھتی ہوئی سطح ساحلی علاقوں کے وجود کے لیے خطرہ ہے تو دوسری طرف کاربن فری کنکریٹ اور سرسبز تعمیرات قدرتی توازن بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ خودکار روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے روایتی شعبوں کی ملازمتیں اگرچہ سمٹ رہی ہیں، مگر ڈیٹا سائنس، جدید انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی نگرانی پر مبنی نئے روزگار وجود میں آ رہے ہیں۔
طب اور جینیات کے میدان میں انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ اب علاج کا مطلب صرف بیماری سے لڑنا نہیں بلکہ جین ایڈیٹنگ اور ایم آر این اے جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے بیماریوں کو لاحق ہونے سے پہلے ہی روکنا ہے۔ اگرچہ انسانی ذہن کو مکمل طور پر ڈیجیٹل فائل کی طرح محفوظ کر لینا ابھی سائنسی تحقیق کا ابتدائی مرحلہ ہے، لیکن نیورالنک اور جدید ‘برین کمپیوٹر انٹرفیس’ نے اعصابی اور دماغی سگنلز کو مشینوں سے جوڑنا ممکن کر دیا ہے۔ اس سے معذور افراد کو نئی زندگی مل رہی ہے اور پیچیدہ امراض کا ازالہ ہو رہا ہے۔ اوسط انسانی عمر میں اضافے کے ساتھ کینسر کے پرسنلائزڈ علاج، ٹیلی میڈیسن اور پہننے والے بایومیٹرک سینسرز نے صحت کی دیکھ بھال کو اسپتالوں کے روایتی چکر سے آزاد کر کے گھروں تک محدود کر دیا ہے۔
توانائی اور سواری کے شعبے میں پیٹرول اور روایتی ایندھن کا خاتمہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ عملی حقیقت بن رہا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے عام ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن فیول سیل، ایڈوانسڈ سولر پاور اور جوہری فیوژن پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ سڑکوں پر خودکار، سیلف ڈرائیونگ کاریں اب ابتدائی آزمائش سے آگے بڑھ کر بعض خطوں میں کمرشل سروسز کا روپ دھار چکی ہیں، اور شہروں کے اندر مختصر فضائی فاصلوں کے لیے ایئر ٹیکسیاں اور عمودی ٹیک آف والے طیارے جلد عام ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا حصہ بننے والے ہیں۔ مقناطیسی قوت پر تیرتی تیز رفتار بلٹ ٹرینیں زمینی سفر کو ایندھن اور دھوئیں کے بغیر بے حد مختصر کر رہی ہیں۔ خلا کے محاذ پر چاند اور مریخ پر مستقل انسانی بستیاں بسانے کی مہم نجی اور ریاستی اداروں کے اشتراک سے اپنے اہم ترین دور میں داخل ہو چکی ہے۔
مینوفیکچرنگ کی دنیا میں تھری ڈی پرنٹنگ نے اشیاء کی تیاری، عمارات کی تعمیر اور انسانی اعضاء کے حیاتیاتی ماڈلز بنانے تک کے عمل کو ازسرنو بدل دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی اگلی نسل، یعنی ہولوگرافک کمیونیکیشن اور مکسڈ رئیلٹی، اسکرینوں کی محتاجی ختم کر کے فاصلوں کو بے معنی بنا رہی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں کلاس رومز اب محض کتابوں اور وائٹ بورڈز تک محدود نہیں رہے، بلکہ جنریٹو اے آئی اور ورچوئل ماحول نے طلبہ کو ایک ایسی ذاتی نوعیت کی تعلیم دینا شروع کر دی ہے جہاں وہ کسی بھی تاریخی واقعے یا پیچیدہ سائنسی عمل کا عملی مشاہدہ اپنی جگہ بیٹھے کر سکتے ہیں۔
خلائی مخلوق کی کھوج کے لیے خلائی دوربینیں اور مشنز کائنات کی وسعتوں کو روز بروز بے نقاب کر رہے ہیں، تاہم زمین پر انسان کا سب سے بڑا چیلنج خود اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے امن کو قائم رکھنا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا جہاں ڈیجیٹل بقا اور خودکار دفاعی نظاموں پر کام کر رہی ہے، وہیں بقائے باہمی کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔ سائنس اور انسان کی تمام تر پیش رفت کے باوجود مستقبل پر حتمی قدرت اور علم صرف پروردگار کے پاس ہے، اور انسان کی یہ تمام کاوشیں دراصل کائنات میں اپنے وجود کو بہتر اور پائیدار بنانے کی ایک مسلسل اور پرامید جدوجہد ہیں۔
