
استاد کا ایک جملہ بچے کی ساری زندگی بدل سکتا ہے۔
استاد کا ایک جملہ کیا فرق ڈالتا ہے؟ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ بچپن میں پڑھائی میں کمزور تھے۔ استاد انھیں کلاس کے سامنے کھڑا کر کے کہتے، ”تم سے کچھ نہیں ہوگا۔“ وہ جملہ ان کے ذہن میں بیٹھ گیا۔ پھر ہر امتحان سے پہلے، ہر مشکل سوال کے سامنے، وہی آواز اندر سے آتی: ”تم سے کچھ نہیں ہوگا۔“ برسوں تک وہ خود کو نالائق ہی سمجھتے رہے ؛ اس لیے نہیں کہ وہ نالائق تھے، بلکہ اس لیے کہ کسی نے انھیں یہ یقین دلا دیا تھا۔
پھر ایک دن ایک نئے استاد آئے۔ انھوں نے کاپیاں واپس کرتے ہوئے اس بچے کا ایک صفحہ دیکھا اور کہا، ”تمھاری لکھائی میں صفائی ہے، تم محنت کر سکتے ہو۔“
بس استاد کا ایک جملہ تھا۔ مگر اس ایک جملے نے اس بچے کو بدل دیا۔ وہ راتوں رات ذہین نہیں ہو گیا ؛ مگر اس نے پہلی بار کوشش کر کے دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایک جملے نے اس کے اندر وہ دروازہ کھول دیا جو برسوں سے بند تھا۔ آج وہ صاحب ایک اسکول چلا رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ان کے اسکول کا اصول صرف ایک ہے: کسی بچے کو یہ کبھی مت کہو کہ تم سے کچھ نہیں ہوگا۔
یہ کوئی انوکھی کہانی نہیں۔ پینتیس سال میں میں نے سیکڑوں ایسے بچے دیکھے ہیں جن کی زندگی کا رخ استاد کے ایک جملے نے موڑ دیا ؛ کسی کا اچھے جملے نے، کسی کا برے جملے نے۔
استاد کا ایک جملہ اتنا طاقت ور کیوں ہوتا ہے؟
بچہ اپنے بارے میں وہی سمجھتا ہے جو بڑے اسے بتاتے ہیں۔ وہ آئینہ نہیں دیکھتا، وہ بڑوں کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ جب استاد کہتا ہے ”تم نالائق ہو“، تو بچہ اسے حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ پھر وہ کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے ؛کیونکہ نالائق کوشش کر کے بھی کیا کرے گا؟ اور جب کوشش چھوٹ جاتی ہے تو نتیجہ بھی ویسا ہی آتا ہے، جو اس یقین کو اور پختہ کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو ایک جملے سے شروع ہوتا ہے اور برسوں چلتا ہے۔
اور اس کے برعکس بھی اتنا ہی سچ ہے۔ جب کوئی استاد بچے میں کوئی ایک اچھی بات دیکھ کر اسے بتاتا ہے، تو بچے کے اندر امید جاگتی ہے۔ وہ سوچتا ہے، ”اگر استاد کو مجھ میں کچھ نظر آیا ہے تو شاید واقعی کچھ ہے۔“ یہ امید اسے کوشش پر اکساتی ہے، کوشش نتیجہ لاتی ہے، اور نتیجہ اس کے یقین کو مضبوط کرتا ہے۔ استاد کا ایک جملہ — اور سارا چکر الٹ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے اساتذہ کے لیے کام کی باتیں
وہ جملے جو توڑ دیتے ہیں
بدقسمتی سے ہمارے اسکولوں میں توڑنے والے جملے جوڑنے والوں سے زیادہ عام ہیں۔ ”تم سے کچھ نہیں ہوگا“، ”تمھارا دماغ ہی نہیں ہے“، ”تم تو فیل ہی ہو گے“ – استاد کا ایک جملہ اکثر غصے میں، بغیر سوچے سمجھے کہا جاتا ہے۔ کہنے والا بھول جاتا ہے، مگر سننے والا نہیں بھولتا۔ بچہ بڑا ہو جاتا ہے، مگر وہ جملہ اس کے اندر بچہ ہی رہتا ہے۔
کبھی کبھی یہ جملے مذاق میں کہے جاتے ہیں ؛کلاس کے سامنے بچے کا مذاق اڑانا، اسے عرفی نام دینا۔ استاد کو لگتا ہے کہ اس سے کلاس ہنسے گی اور ماحول ہلکا ہوگا۔ مگر جس بچے پر ہنسا جا رہا ہے، اس کے لیے وہ لمحہ عمر بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ہنسی ختم ہو جاتی ہے، زخم رہ جاتا ہے۔
اور کبھی یہ جملے موازنہ کی صورت میں آتے ہیں: ”دیکھو، تمھارا بھائی کتنا اچھا پڑھتا ہے!“ یا ”فلاں کا بیٹا دیکھو!“ موازنہ بچے کو بہتر نہیں بناتا -یہ اسے صرف یہ سکھاتا ہے کہ وہ کمتر ہے۔ اور جو بچہ خود کو کمتر سمجھنے لگے، وہ کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
اساتذہ کیا کریں؟
پہلی بات: سچ بولیں، مگر سچ کو زہر میں ڈبو کر نہیں۔ اگر بچہ کمزور ہے تو یہ کہنا کہ ”تم بہت اچھے ہو“ جھوٹ ہے، اور بچے جھوٹ پہچان لیتے ہیں۔ اس کے بجائے کوئی ایک سچی اچھی بات تلاش کریں ؛لکھائی کی صفائی، محنت کی عادت، سوال پوچھنے کی ہمت، کسی ایک مضمون میں دلچسپی ؛اور اسے بتائیں۔ استاد کا ایک جملہ اگر سچا ہو تو جھوٹی تسلی سے ہزار گنا زیادہ طاقت رکھتا ہے۔
دوسری بات: بچے کے عمل پر بات کریں، اس کی ذات پر نہیں۔ ”تم نالائق ہو“ کی جگہ کہیں، ”یہ جواب غلط ہے، آؤ مل کر درست کرتے ہیں۔“ پہلا جملہ بچے کو مجرم ٹھہراتا ہے، دوسرا اسے ساتھی بناتا ہے۔ بچہ غلط جواب دے سکتا ہے، مگر وہ خود غلط نہیں ہوتا۔
تیسری بات: غصے میں کبھی کوئی حتمی جملہ نہ کہیں۔ ”تم سے کچھ نہیں ہوگا“ ایک حتمی فیصلہ ہے ؛اور کسی استاد کو کسی بچے کے مستقبل کا حتمی فیصلہ سنانے کا حق نہیں۔ آپ کو نہیں معلوم کہ یہ بچہ کل کیا بنے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن بچوں کو نالائق کہا گیا، ان میں سے کتنے نے دنیا بدل دی۔
والدین بھی استاد ہیں
یہی بات گھر پر بھی اتنی ہی سچ ہے۔ والدین کا ”تم سے نہیں ہوگا“ بھی بچے کے دل پر ویسا ہی نقش چھوڑتا ہے جیسا استاد کا ایک جملہ۔ اور ”کوشش کرو، میں تمھارے ساتھ ہوں“ بھی اتنی ہی طاقت رکھتا ہے۔
بچہ اسکول میں چند گھنٹے گزارتا ہے، باقی وقت گھر میں۔ اگر گھر میں بھی وہی توڑنے والے جملے سنے تو اس کے پاس بچنے کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ اس لیے والدین کو بھی اپنے جملوں کا حساب رکھنا چاہیے ؛ خاص طور پر غصے کے لمحوں میں، جب زبان دل سے آگے نکل جاتی ہے۔
ایک اصول جو سب کے لیے ہے
وہ صاحب جن کی کہانی سے میں نے شروع کیا تھا، آج اپنے اسکول میں ایک اصول پر سختی سے عمل کرتے ہیں: کسی بچے کو یہ کبھی مت کہو کہ تم سے کچھ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اصول انھیں اس ایک جملے نے سکھایا تھا جس نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔
استاد کو اکثر اندازہ نہیں ہوتا کہ استاد کا ایک جملہ بچے کے اندر کتنی دیر تک گونجتا ہے۔ بچہ نصاب بھول جاتا ہے، کتابیں بھول جاتا ہے ؛ مگر استاد کا ایک جملہ ساری زندگی یاد رکھتا ہے۔
تو آج کسی ایک بچے سے ایک اچھا جملہ کہہ کر دیکھیں۔ سچا جملہ، سوچا ہوا جملہ۔ ہو سکتا ہے وہ اسے ساری زندگی یاد رکھے ؛ اور ہو سکتا ہے استاد کا ایک جملہ اس کی زندگی کا رخ موڑ دے۔

