Afkaarافکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ
Add more content here...

افکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ

راجا صاحب کا عشائیہ

جاوید اقبال راجا

جمیل صاحب نے عاجزی سے عرض کی:
“سر، آپ خود دیکھ لیں…”
تو فرمان ہوا:
“آپ ساتھ ہوتے تو کچھ مشورہ کر لیتے۔ اب میں وہی مینیو آرڈر کر  رہا ہوں جو عام مسلمان کھاتے ہیں۔ باقی آپ کی مرضی!”

راجا صاحب

جاوید اقبال راجا

راجا صاحب کی محفل میں بیٹھیں، تو بالکل نہیں لگتا کہ پچھلی صدی کے انسان سے مل رہے ہیں۔ بلکہ اپنے جیسے لگتے ہیں—جیسے کوئی پرانا ریڈیو نیا اینٹینا لگا کر چل رہا ہو!

روسٹرم کا فاتح

روسٹرم کا فاتح

ایک سنگ تراش سے پوچھا گیا کہ تم پتھر سے شیر کیسے گھڑ لیتے ہو؟اس نے بڑا خوب صورت جواب دیا۔بولا شیر اس پتھر کے اندر ہوتا ہے۔اس شیر پر پتھر کی فالتو تہیں چڑھی ہوتی ہیں،میں انھیں نرمی سے اتار دیتا ہوں،اندر سے شیر نکل آتا ہے۔

بول میری بکری

بول میری بکری

 گاؤں کے چوپال میں پھتو راکٹ  نے اپنی نیم وا نشیلی آنکھوں سے لوگوں کو دیکھ کے کہا، ‘آہستہ آہستہ دنیا سے بڑے بڑے لیڈر جا رہے ہیں۔ ان دنوں میری طبیعت بھی کچھ ناساز رہتی ہے۔’

چھائیں یونگ

چھائیں یونگ

    شادی میں میرے گاؤں کے بہت سے لوگ شریک تھے۔عورتوں نے مجھے میم کے ساتھ دیکھا تو طرح طرح کی باتیں گھڑ لیں۔

چھائیں یونگ

جاوید اقبال راجا کے قلم سے گدگداتی تحریر

کہنے لگی، تمھاری بیگم  نے ہاتھ میں چھری اٹھائی ہوئی تھی ۔چھری گردن پر پھیرنے کا اشارا کر کے بولی۔ مائی ہارٹ ۔۔۔۔۔۔۔راجا ،یعنی میرا  دل کرتا ہے کہ میں راجا کی گردن پر چھری پھیر دوں۔

چھائیں یونگ

جاوید اقبال راجا کے قلم سے ایک گدگداتی تحریر

آکو پنکچر ڈاکٹر تھی۔چائنا کے کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان آئی اور اسے یہ “منافق  معاشرہ” اتنا پسند آیا کہ بس یہیں کی ہو گئی۔

مرد درویش

جاوید اقبال راجا کی کتاب مرد درویش

راجا محمد ظہیر سٹیج اور جلسوں کے بادشاہ تھے۔ سٹیج پر کھڑے ہوتے تو کوئی ان سے زیادہ قد آور نظر نہ آتا۔ تقریر کرتے تو لوگ یوں ہمہ تن گوش ہو جاتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں