شہر بانو
جس کسی نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر کسی قتل کے قصاص کے یا بغیر زمیں میں فساد پھیلانے کے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ (سورہ المائدہ)
خواتین جو کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور پھر بھی، وہ اکثر تشدد کی انتہائی گھناؤنی شکلوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ اپنے خاندانوں اور برادریوں کی پرورش کرنے والی، دیکھ بھال کرنے والی اور طاقت کے ستون ہونے کے باوجود، خواتین کو اکثر ان کے بنیادی حقوق، وقار اور احترام سے محروم رکھا جاتا ہے۔
وحشیانہ سچائی یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور عصمت دری کسی گزرے ہوئے دور کے آثار نہیں ہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہماری جدید دنیا پر ان بے غیرت مردوں کی غیرت کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے، جو روایت اور ثقافتی اصولوں کے پیچھے ان گھناؤنے جرائم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔اور پھر موصوف غیرت کے تصور کو توڑ مڑوڑ کر بڑے دھڑلے سے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ جہاں غیرت کے نام پر جوڑے کو سرے عام گولیوں کی بوچھاڑ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ایسے واقعات پر افسوس کے الفاظ سے نہیں ، عملی ردّعمل ، بیداری اور انصاف کے مطالبے سے جواب طلب کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: انسانیت سے غداری – فلسطین کی موجودہ صورت حال
اسلام کے نام پر دہشت گردی، غیرت کے نام پر بے غیرتی، انسانیت کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ یہ کوئی غیرت نہیں بلکہ سراسر جہالت ہےاور اس جہالت نے معاشرے کی انسانیت کو نگل لیا ہے۔ بے غیرتی کی آخری حد یہی ہے کہ آپ کو غیرت صرف ماں، بہن اور بیٹی کے وقت یاد آئے۔
بیٹی اور بہن کی وراثت کھاتے وقت یہ غیرت کیوں نہیں جاگتی؟ مگر پسند کی شادی پر انہیں قتل کر دیا جاتا افسوس ہے تیری بے غیرتی پر اے غیرت مند۔ جب کسی کی بہن بیٹی کی عزت پہ ہاتھ ڈالتا ہے تب کہاں جاتی تیری غیرت؟ اور جب حادثاتی طور پر ، رہ گزرتی کسی عورت کی عزت پامال کر دی جاتی پھر کہاں جاتی تیری غیرت ؟ کیوں نا جا کر اس بے غیرت کو غیرت کے نام پر قتل کرتے ہو جہاں پھر بھی حق بنتا؟ بلکہ پھر تیری غیرت کچھ یوں جاگتی ہے اب میری عزت کا سوال ہے تو جا میرے گھر سے، تب کیوں نہیں آتی تجھے غیرت؟
یقین جانو، اور جس دن عورت نے غیرت کے نام پر قتل شروع کر دئیے اس دن مرد صرف کتابوں میں ملیں گے۔
شہر بانو
شہر بانو پیشہ ورانہ طور پر تعلیمی تحقیق و جائزہ کے کام سے وابستہ ہیں۔ لکھنے لکھانے کا عمدہ ذوق رکھتی ہیں۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں پاکستان انٹرنیشنل میڈیا کونسل، بشیر رحمانی ادبی فاؤنڈیشن اور پہچان پاکستان کی جانب سے بہترین کالم نگار کے ایوارڈ، میڈل اور دیگر اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔




