Afkaarافکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ
Add more content here...

افکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ

share

میٹرک کے بعد کا فیصلہ؟

میٹرک کے بعد کا فیصلہ

ذوالفقار حسین اعوان

حال ہی میں آزاد کشمیر اور پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد۔ میٹرک کا امتحان پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو طلبہ اس مرحلے پر عمدہ کارکردگی دکھاتے ہیں، وہ آگے بھی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں، اور ایک روشن مستقبل ان کا منتظر ہوتا ہے۔

تاہم اس کے برعکس یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ بعض طلبہ، جو میٹرک میں شاندار نمبر حاصل کرتے ہیں، آگے چل کر وہ کارکردگی برقرار نہیں رکھ پاتے جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ اگر ان کی ناکامی کا تجزیہ کیا جائے تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایسے مضامین یا شعبہ جات کا انتخاب کیا جن کا ان کے فطری رجحان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بعض اوقات کسی کامیاب شخصیت یا روایتی نظریے کو دیکھ کر ایسے فیصلے کر لیے جاتے ہیں جو بعد میں ندامت کا باعث بنتے ہیں، لیکن تب تک واپسی کا راستہ یا تو بند ہو چکا ہوتا ہے یا انتہائی کٹھن ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹرک کے بعد مضامین کا انتخاب کیسے کریں؟

ایسے نازک مرحلے پر درست رہنمائی نہایت ضروری ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک طالب علم کو اپنے ذہنی رجحانات، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق تعلیمی میدان کا انتخاب کرنا چاہیے، مگر عموماً بچے خود اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک جامع انداز میں دیکھ سکیں۔ اساتذہ، والدین اور ماہرین ان کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اس عمل کو محض روایت یا اندازے کی بنیاد پر نہ کریں بلکہ سائنسی طریقہ کار اپنائیں۔

بدقسمتی سے اکثر والدین یا تو اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا بچوں کو مکمل اختیار دے دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے مضامین منتخب کریں۔ ایسا فیصلہ بعض اوقات بچوں کو ان مضامین کی طرف لے جاتا ہے جو ان کی افتاد طبع سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً وہ طلبہ نہ صرف تعلیم سے بیزار ہو جاتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ اس کا نقصان نہ صرف انہیں ہوتا ہے بلکہ ان شعبوں کو بھی جو ان کی فطری صلاحیتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب کیریئر کونسلنگ کا شعور پیدا ہو رہا ہے اور اس فیلڈ میں ایسے ماہرین موجود ہیں جو طلبہ کی فطری صلاحیتوں اور رجحانات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے کر انہیں بہتر تعلیمی راستہ دکھانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ رہنمائی نہ صرف بچے کے لیے اطمینان کا باعث بنتی ہے بلکہ والدین کے لیے بھی سکون قلب کا ذریعہ ہوتی ہے۔

اس ضمن میں ایک ذاتی تجربہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ ایک طالب علم جو میٹرک کے امتحان کے بعد اپنے تعلیمی مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا، اس نے ابتدائی طور پر ایک ایسا شعبہ منتخب کیا جو اسے روزگار کی سہولت اور مستقبل کی آسانی فراہم کرتا محسوس ہو رہا تھا۔ تاہم، جب اس کی صلاحیتوں اور رجحانات کا سائنسی تجزیہ کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ اس کی فطری دلچسپی کسی اور شعبے میں ہے۔ نتیجتاً اُس نے اپنا فیصلہ بدل کر ایک نئے اور موزوں راستے کا انتخاب کیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف بچے کے لیے اطمینان بخش ثابت ہوا بلکہ والدین کو بھی اس کی درست سمت پر یقین آ گیا۔

یہ ایک واضح مثال ہے کہ اگر وقت پر درست رہنمائی فراہم کی جائے، تو ایک بچہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر، ایک غلط فیصلہ اُس کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس

اشتراک کریں

Facebook
Pinterest
LinkedIn
WhatsApp
Telegram
Print
Email