جمیل احمد
آج سارہ خوشی خوشی تیار ہو کر اسکول میں آئی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد پہلی کلاس جو ہو رہی تھی۔ بڑی بڑی کھڑکیوں سے روشنی اندر آ رہی تھی اور بچے آپس میں خوشی خوشی باتیں کر رہے تھے۔ ہر کسی کے چہرے پر تازگی اور جوش نمایاں تھا۔ کوئی دوستوں سے گلے مل رہا تھا، کوئی اپنے بستے سے نیا پنسل باکس نکال کر دکھا رہا تھا، اور کوئی اپنی چھٹیوں کی یادیں شیئر کرنے میں مصروف تھا۔
ان سب کو دیکھ کر سارہ کلاس کے ایک کونے میں اپنی کرسی پر خاموش بیٹھ گئی۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ سب کے پاس بتانے کو کچھ خاص ہے، لیکن اس کے پاس کیا ہے؟ وہ صرف گاؤں گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اپنے گاؤں میں گزاری ہوئی چھٹیوں کا ذکر کرے گی تو شاید دوسرے بچے ہنس پڑیں۔
ایک لڑکی بڑے فخر سے بتا رہی تھی کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ مری گئی تھی، وہاں کی ٹھنڈی ہوائیں اور پہاڑ کتنے خوبصورت تھے۔ دوسرا لڑکا بول رہا تھا کہ اس نے کراچی کے ساحلِ سمندر پر گھوڑے کی سواری کی، آئس کریم کھائی اور سمندر کی لہروں میں کھیل کر خوب مزہ کیا۔ کچھ بچے تو ملک سے باہر بھی گئے تھے۔ ان کے پاس تصویریں تھیں، نئے کپڑوں اور تحفوں کی کہانیاں تھیں۔
سارہ کا دل بجھ سا گیا۔ اس نے تو گرمیوں کی چھٹیاں نانی اماں کے ساتھ کھیتوں کی سیر کرنے میں گزاری تھیں۔ وہ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے ان کے ساتھ نہر پر جاتی،اور پانی کے چھینٹوں سے اس کے کپڑے تر ہو جاتے۔ دوپہر کو نانی اماں پرانے پیپل کے درخت کے سائے میں بیٹھ کر قصے سناتیں۔ وہ بتاتیں کہ کس طرح انہوں نے جوانی میں زمین کو آباد کیا، کس طرح مشکل وقت میں صبر کیا، اور کیسے محبت اور محنت سے خاندان کے ساتھ رشتہ قائم رکھا۔ شام کو سارہ اپنی بہن کے ساتھ گاؤں کی گلیوں میں کھیلتی، اور رات کو سب لوگ چھت پر سو جاتے۔ آسمان پر اتنے ستارے جگمگاتے کہ لگتا جیسے کسی نے کالے کپڑے پر ہیرے جڑ دیے ہوں۔
یہ سب باتیں سارہ کو تو بہت پسند تھیں، لیکن وہ سوچتی تھی کہ یہ کہانیاں اتنی “خاص” نہیں ہوں گی جتنی باقی بچوں کی ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ وہ کچھ نہیں بولے گی۔
اسی دوران استانی صاحبہ کلاس میں داخل ہوئیں۔ سب بچے خاموش ہوگئے۔استانی صاحبہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
“پیارے بچو! آج ہم سب اپنی چھٹیوں کے تجربات شیئر کریں گے۔ سب بچے باری باری اپنی چھٹیوں کا سب سے یادگار لمحہ دوسروں کو بتائیں۔”
ایک ایک کر کے سب بچے کھڑے ہوتے اور اپنی اپنی داستان سناتے۔ کوئی نتھیا گلی کے ٹھنڈے موسم کا ذکر کر رہا تھی، کوئی لاہور کے چڑیا گھر کی سیر کا، تو کوئی اپنے نئے گیجٹس اور کھلونوں کی ۔ کلاس میں قہقہے بکھر رہے تھے اور خوشی کا سماں تھا۔
پھر استانی صاحبہ نے سارہ کی طرف دیکھا۔
“سارہ بیٹا، تم بھی ہمیں اپنی چھٹیوں کے بارے میں بتاؤ۔”
سارہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آہستگی سے کرسی سے اٹھ کر کہا:
“میڈم… میں گاؤں گئی تھی۔”
کلاس خاموش ہو گئی۔ کچھ بچوں نے تجسس بھری نظروں سےسارہ کی طرف دیکھا۔ سارہ نے جھجکتے ہوئے کہا:
“میں نانی اماں کے ساتھ کھیتوں میں جاتی تھی۔ ہم نے مکئی کے پودوں کو پانی دیا، اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کھیتوں کے ساتھ ان کی کتنی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ ایک دن وہ مجھے آم کے اس درخت کے پاس لے گئیں جو انہوں نے اپنی جوانی میں لگایا تھا۔ وہ درخت اب بہت بڑا ہو گیا ہے اور ہر سال اس پر اتنے میٹھے آم آتے ہیں کہ پورے محلے کے بچے خوش ہو جاتے ہیں۔”
بچوں کی آنکھوں میں دلچسپی جھلکنے لگی۔ سارہ نے ذرا حوصلہ پا کر آگے کہا:
“رات کو ہم سب چھت پر سوتے تھے۔ نانی اماں ہمیں کہانیاں سناتیں۔ میں نے پہلی بار اتنے ستارے دیکھے کہ مجھے لگا جیسے آسمان پر کوئی جشن ہو رہا ہو۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی، اور دور کہیں جھینگر کی آوازیں آ تی تھیں۔ مجھے وہ راتیں کبھی نہیں بھولیں گی۔”
یہ بھی پڑھیں: پانچ داناؤں کی کہانی
کلاس کے کچھ بچے مسکرا اٹھے۔ ایک لڑکا بولا:
“واہ! میں نے تو کبھی اتنے ستارے نہیں دیکھے۔ شہر میں تو آسمان ہمیشہ دھندلا سا لگتا ہے۔”
دوسری بچی نے کہا:
“نانی اماں کی کہانیاں سننا کتنا اچھا ہوتا ہوگا! ہمارے نانا بھی کبھی کبھی قصے سناتے ہیں، لیکن اب وہ زیادہ بیمار رہتے ہیں۔”
استانی صاحبہ نے خوشی سے سر ہلایا اور بولیں:
“دیکھو بچو، ہر کسی کی چھٹیوں کی اپنی انوکھی کہانی ہے۔ کسی نے پہاڑ دیکھے، کسی نے سمندر، اور سارہ نے گاؤں کی زمین اور ستاروں کی روشنی دیکھی۔ سب کہانیاں قیمتی ہیں، کیونکہ وہ ہمارے دلوں سے جڑی ہوئی ہیں۔”
یہ سن کر سارہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کے تجربات بھی اہم ہیں، بلکہ شاید اور بھی زیادہ۔ کیونکہ وہ زمین، محنت، اور خاندان کے رشتوں سے وابستہ تھے۔
گھر پہنچتے ہی اس نے نانی اماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور گاؤں کی پگڈنڈی پر سورج کی سنہری کرنیں بکھر رہی تھیں۔ سارہ نے سوچا:
“میں کل کلاس میں نانی اماں کی ایک اور کہانی ضرور سناؤں گی۔ کیونکہ میری کہانی بھی سب کی طرح خوبصورت ہے۔”
اب سارہ سمجھ چکی تھی کہ کہ ہم سب کی کہانیاں اہم ہیں، چاہے وہ گاؤں کی ہوں یا شہر کی، چاہے سادہ ہوں یا چمکتی دمکتی۔ اصل خوبصورتی اپنی کہانی پر یقین کرنے اور دوسروں کو اعتماد کے ساتھ سنانے میں ہے۔
جمیل احمد
جمیل احمد تعلیم و تربیت کے میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ تعلیم و تربیت، کیرئیر کاؤنسلنگ، کردار سازی، تعمیر شخصیت اور سیر و سیاحت ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔





2 Responses
Inspiration for kids and knowledge for all.Youngs be encouraged to narrate their feelings.
بے شک۔ بچوں کو اپنے خیالات بیان کرنے کا موقع دینا چاہیے۔