Afkaarافکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ
Add more content here...

افکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ

share

مسئلہ یا موقع؟

مسئلہ یا موقع؟

جمیل احمد

فہد ایک عام سا بچہ تھا۔ وہ گلی میں دوستوں کے ساتھ کھیلنا، اسکول جانا اور دادا جان سے  کہانیاں سننا پسند کرتا تھا۔ لیکن ایک دن کچھ عجیب ہوا۔ اسے لگا کہ اس کے ہر معاملے میں کوئی نہ کوئی “مسئلہ” ہے۔

یہ مسئلہ نہ کوئی شخص تھا نہ کوئی جانور، بلکہ ایک ایسا بوجھ تھا جو ہر وقت اس کے دل پر سوار رہتا۔ کبھی یہ مسئلہ چھوٹا سا لگتا اور کبھی اتنا بڑا کہ فہد کو لگتا وہ اس سے بھاگ نہیں سکتا۔

ایک دن کلاس میں استاد صاحب نے اچانک ٹیسٹ لے لیا۔ فہداس کے لیے  تیار نہیں تھا۔ وہ گھبرا گیا اور سوچنے لگا:

“کاش یہ ٹیسٹ نہ ہوتا! یہ تو میرے لیے بہت بڑا  مسئلہ ہے۔”

اس دن سے اسے لگنے لگا کہ مسئلےاس کے آس پاس  ہر طرف پھیلے ہوئے  ہیں۔ کھیل کے دوران گیند کھو جائے تو مسئلہ، بجلی چلی جائے تو مسئلہ، ہوم ورک پورا نہ ہو تو مسئلہ۔ یہاں تک کہ ایک دن چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کا جھگڑا ہوگیا۔ اب کھیل بھی اسے مسئلہ لگنے لگا۔

فہد نے سوچا:

“کاش میں ان مسائل کو نظرانداز کر سکوں۔”

اب اس نے مسائل کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔ اگر کوئی کہتا کہ امتحان قریب ہیں تو وہ کتاب بند کر دیتا۔ اگر کوئی کہتا کہ کمرہ صاف کرو، تو وہ چپ چاپ باہر نکل جاتا۔ لیکن مسئلےنہ ختم ہونے تھے، سو نہ  ختم نہیں ہوئے۔ بلکہ جتنا وہ ان سے بھاگتا، وہ اتنے ہی بڑے ہوتے گئے۔

اب یوں ہونے لگا کہ رات کو وہ کروٹیں بدلتا رہتا۔اس کے  دل میں عجیب سا بوجھ ہوتا۔ جیسے کوئی سایہ اس کا پیچھا کر رہا ہو۔وہ ہر وقت بے چین رہنے لگا۔

ایک دن اس نے دادا جان کو سب کچھ بتا دیا۔ دادا جان مسکرا کر بولے:

“بیٹا! مسئلے ایسےہوتے  ہیں جیسے بارش کے بادل۔ اگر ہم ڈر کر چھپ جائیں تو گھنے بادلوں نے برسنا تو ہے، لیکن اگر ہم باہر نکل کر ان کا سامنا کریں تو بارش بھی ملتی ہے اور ٹھنڈک بھی۔ یوں ہر مسئلے میں ایک موقع چھپا ہوتا ہے، بس دیکھنے کی نظر چاہیے۔”

فہد نے حیرت سے پوچھا:

“موقع؟ مگر مسئلہ تو ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے!”

دادا جان نے جواب دیا:

“جب تم زمین میں  بیج بوتے ہو تو شروع میں وہ مٹی میں چھپ جاتا ہے۔ اس کے ارد  اندھیرا اوراوپر  بوجھ ہوتا   ہے، مگر اسی اندھیرے اور بوجھ کے اندر نیا پودا اگتا ہے۔ مسئلہ بھی ایسا ہی ہے، بیٹا۔”

اگلے دن اسکول میں ریاضی کا مشکل سوال آیا۔ پہلے تو فہد نے سوچا: “یہی تو میرا مسئلہ ہے!” لیکن پھر اسے دادا جان کی بات یاد آئی۔ اس نے ہمت کی اور سوال کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ پہلے پہل کچھ سمجھ نہ آیا، مگر بار بار کوشش کے بعد آہستہ آہستہ جواب مل گیا۔

جب استاد صاحب نے اس کی کاپی دیکھی تو بہت تعریف کی:

“شاباش فہد! مجھے خوشی ہے کہ یہ سوال تم نے خود حل کیا۔”

یہ سن کر فہد کا دل خوشی سے بھر گیا۔ اسے لگا جیسے اس کا مسئلہ ایک موقع بن گیا تھا، جس نے اسے سکھا دیا کہ وہ محنت کر کے مشکل حل کر سکتا ہے۔

کچھ دن بعد محلے میں کرکٹ میچ رکھا گیا۔ فہد کو کپتان بنایادیا  گیا لیکن اس کی ٹیم کمزور تھی۔ سب نے کہا:

“یہ میچ تو ہم ہار جائیں گے۔”

یہ فہد کے لیے پھر ایک مسئلہ تھا۔ مگر اس بار اس نے بھاگنے کی  بجائے حل سوچا۔ اس نے ٹیم کے بچوں کو حوصلہ دیا:

“ہم سب محنت کریں گے، فیلڈنگ اچھی کریں گے، اور اگر دل لگا کر کھیلیں تو کچھ بھی ممکن ہے۔”

میچ مشکل تھا مگر آخر میں فہد کی ٹیم نے اچھا کھیلا اور جیت گئی۔ ٹیم کے سب بچے خوش ہو کر بولے:

“کپتان! تم نے تو ہمارا مسئلہ حل کر دیا۔”

فہد نے مسکرا کر کہا:

“نہیں، یہ ہم  سب نے مل کر کیا ہے۔”

اب فہد کو سمجھ آنے لگی تھی کہ مسئلے دشمن نہیں ہوتے۔ اصل دشمن تو ہمارا خوف ہے۔ جب ہم ڈرتے ہیں تو مسئلہ ہمیں بڑا لگتا ہے، لیکن جب ہم ہمت کرتے ہیں تو وہی مسئلہ ہمیں کچھ نیا سکھا دیتا ہے۔

ایک دن اسکول میں تقریری مقابلہ ہوا۔ فہد کا نام بھی مقررین میں  شامل تھا۔ پہلے وہ گھبرا گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ لیکن پھر اس نے سوچا:

“یہ میرا مسئلہ ہے، مگر اس میں موقع بھی ہے۔ اگر میں بولوں گا تو اعتماد بڑھے گا۔”

یہ بھی پڑھیں: آخری سٹاپ

اس نے ہمت کی اور سب کے سامنے تقریر کر ڈالی۔ اگرچہ کچھ الفاظ بھول گیا، مگر سب نے تالیاں بجائیں۔ استادصاحب  نے کہا:

“بیٹا، یہ تمہاری جیت ہے۔ مسئلے سے بھاگنے کی بجائے اس کا سامنا کرنے سے ہی کامیابی ملتی ہے۔”

اب فہد مسئلے کو مختلف نظر سے دیکھنے لگا۔ اگر چھوٹا بھائی ضد کرتا تو وہ صبر کر کے اس سے بات کرتا۔ اگر ہوم ورک مشکل لگتا تو وہ استادصاحب  سے مدد لیتا۔ اگر کھیل میں ہارتا تو یہ سوچتا کہ یہ موقع ہے کچھ نیا سیکھنے کا۔

کچھ وقت بعد اس کے دوستوں نے بھی نوٹ کیا کہ فہد پہلے سے زیادہ پُراعتماد اور خوش رہنے لگا ہے۔ اب وہ دوسروں کو بھی کہتا:

“ڈرو نہیں، مسئلے میں موقع چھپا ہے۔ اسے تلاش کرو۔”

ایک شام فہد چھت پر بیٹھا  غروب ہوتے ہوئے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور آسمان پر بادل چھائے تھے۔ اس نے سوچا:

“یہی تو زندگی ہے۔ کبھی آسمان صاف ہوتا ہے اور کبھی بادل آ جاتے ہیں۔ مگر ہر بادل کے پیچھے بارش ہے اور ہر مسئلے کے اندر ایک نیا موقع۔”

اس لمحے فہد کو احساس ہوا کہ مسئلے سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اب فہد سمجھ چکا تھا کہ مسئلے زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر ہم ان سے بھاگیں گے تو وہ بڑے ہوتے جائیں گے، لیکن اگر ہم ہمت اور اعتماد سے ان کا سامنا کریں گے تو وہی مسئلے ہمیں نیا موقع، نیا سبق اور نیا راستہ دکھائیں  گے۔

اسے سبق مل گیا تھا کہ ہر مسئلے کے اندر ایک چھپا ہوا تحفہ ہے — بس اسے دیکھنے کے لیے ہمت چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس

اشتراک کریں

Facebook
Pinterest
LinkedIn
WhatsApp
Telegram
Print
Email