Afkaarافکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ
Add more content here...

افکار آپ کا اپنا اُردو بلاگ

share

آخری سٹاپ

آخری سٹاپ

جمیل احمد

اتوار کی دوپہر تھی۔ مسجد سے اذان کی آواز آ رہی تھی اور سورج کی  تپش  سے پرندے اپنے گھونسلوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ننھے حامد نے اپنی کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں اس کا دوست علی  اپنی نئی نویلی  سائیکل پرسوار، ایک ٹانگ زمین پر رکھے اسے آواز دے رہا تھا۔

“حامد! چل، ہم سب واٹر پارک جا رہے ہیں! جلدی کر!”

ایک لمحے کو حامد کا دل چاہا  کہ وہ ابھی علی کے ساتھ چلا جائے، لیکن پھر اسے یاد آیا، اسے تو اپنے دادا جان کے ساتھ شہر کے آخری سٹاپ  پر جانا تھا۔

اس نے علی سے معذرت کی اور دادا جان  کی طرف دیکھا، جو پہلے ہی تیار ہو کر بیٹھے تھے۔

“دادا جان” حامد نے ذرا افسوس بھرے لہجے میں کہا، “ہمارے پاس  اپنی گاڑی کیوں نہیں؟ علی کے پاس  تو نئی سائیکل ہے، اور حمزہ کے ابو کے پاس ایک بڑی سفید گاڑی ہے۔”

دادا جان نے اپنی ٹوپی سیدھی کی  اور مسکراتے ہوئے کہا، “بیٹا، ہمارے پاس تو وہ چیز ہے جو ان کے پاس نہیں۔ چل، بس آ گئی ہے۔”

اور اسی وقت ، سڑک کےسامنے والے   موڑ سے ایک پرانی، رنگین، ہارن  بجاتی ہوئی  بس آتی نظر آئی، جس کے اوپر سبز، سرخ اور پیلی بتیاں بھی جل رہی تھیں۔ ڈرائیور چاچا نے دروازہ کھولا اور اندر سے خوشگوار ہلکی سی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔

بس کے اندر اپنی ہی ایک دنیا تھی۔ ایک بابا جی  اپنے مرغے کے پنجرے کو ساتھ لیے بیٹھے تھے، ایک درمیانی عمر کی خاتون کے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھی جس کی خوشبو ساری بس میں پھیل رہی تھی۔  پوٹلی میں بندھے تازہ پکے ہوئے پراٹھوں کی خوشبو حامد کی اشتہا اور بڑھا رہی تھی۔ساتھ والی سیٹ پربیٹھا   ایک نوجوان لڑکا  شاید موبائل فون پر گیم کھیل  رہا تھا۔

“دادا جان، اس لڑکے کو دیکھیں، وہ تو فون پر گیم کھیل رہا  ہے،” حامد نے کہا۔

دادا جان نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، موبائل فون پر گیم کھیلنے  سے اچھا ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے حسین نظارے دیکھیں  اور ان سے لطف اٹھائیں۔”

یہ کہہ کر انہوں نے حامد کی توجہ کھڑکی کے باہر کی طرف دلائی۔  بس ایک پُل سے گزر رہی تھی جس کے نیچےصاف شفاف پانی کی  ایک ندی بہہ رہی تھی۔ سورج کی کرنیں پانی پر پڑ رہی تھیں اور وہ ہیروں کی طرح جگمگا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ  سر سبز کھیتوں   کے درمیان سے گزر رہے تھے۔کناروں پر کہیں کہیں  سرخ اور پیلے گلاب لگے تھے ،  اور  کھجور کے درخت بھی۔

 اگلا اسٹاپ آیا تو ایک صاحب سفید لاٹھی کے سہارے   بس پر سوار ہوئے۔حامد نے محسوس کیا کہ وہ بینائی سے محروم ہیں۔ اس نے فوراً اپنی جگہ خالی کر دی۔ دادا جان نے خوشی سے حامد کی کمر پر تھپکی دی۔

ان صاحب نے حامد کی طرف منہ کر کے پوچھا، “بیٹا!تمہیں دنیا کیسی دکھائی دیتی ہے؟”

حامد نےکچھ  سوچا اور کہا، “یہ تو بہت رنگین اور دلچسپ دنیا  ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: پانچ داناؤں کی کہانی

انہوں نےاپنی انگلیوں سے ہوا میں ایک خیالی سی تصویر بنائی اور  مسکرا کر کہا، “مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔”

کچھ ہی  دیر میں بس نے اپنے آخری سٹاپ پر پہنچ چکی تھی۔ یہ شہر  کا ایک پرانا علاقہ تھا، جہاں گلیاں تنگ تھیں اور مکان بہت قریب قریب تھے۔ حامد اور  دادا جان بس سے اترے اور ایک چھوٹی سی گلی میں داخل ہوئے۔ایک عمارت  کے بورڈ پر لکھا تھا: “بیت السکون”۔ یہ ایک  گھر تھا جہاں بوڑھے اور ضرورت مند لوگوں کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔

دروازہ کھلتے ہی کئی چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔

“دادا آگئے، دادا آگئے ! اور ہمارا چھوٹا ڈاکٹر حامد بھی!” ایک بزرگ خاتون کی خوشی سے بھرپور آواز سنائی دی۔

حامد فوراً ہی اپنی مایوسی بھول گیا۔ اس نے اپنا بیگ  کھولا اور وہاں موجود بزرگوں میں دادا جان کے لائے  ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کرنے لگا۔کبھی  وہ کسی  بزرگ سے کہانی سنانے کی فرمائش کرتا، تو کبھی کسی کی دوا کا وقت یاد دلاتا۔ وہ یہاں کا “چھوٹا ڈاکٹر” تھا۔

کام ختم ہوا تو وہ باہر بیٹھ گئے۔ سورج ڈوب رہا تھا ۔ آسمان پر سنہری اور نارنجی رنگ بکھرنے لگے۔

حامد نے  دادا جان کی طرف دیکھا، جن کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے، لیکن چہرے پر ایک گہری اطمینان بھری مسکراہٹ تھی۔

“دادا جان” حامد نے آہستہ سے پوچھا، “یہ جگہ تو اتنی خوبصورت ہے، پھر یہاں اتنی غربت کیوں ہے؟”

دادا جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، “بیٹا، غریبی صرف پیسے نہ ہونے کا نام نہیں ہوتا۔ غریبی تو دل کی ہوتی ہے۔ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے، ایک دوسرے کے درد کو بانٹتا ہے۔  یہ رنگینیاں تو دیکھو۔” انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا، “یہ تو ہر جگہ ہیں، چاہے  کوئی خوش حال بستی  ہو یا یہ چھوٹی سی گلی۔ حسن دیکھنے والی نظر میں ہوتا ہے، بیٹا۔ اور آج تم نے بہت خوبصورت نظر سے یہ سب کچھ  دیکھا ہے۔”

حامد نے محسوس کیا کہ اس کے اندر ایک نیا جوش، ولولہ  اور روشنی  سی بھر گئی ہے۔ اسے یہ جگہ  واٹر پارک کے سوئمنگ پول سے کہیں زیادہ گہری اور خوبصورت لگی۔ اس نے فرط جذبات میں  دادا جان کا ہاتھ تھام لیا۔ اسے اب کوئی جلدی نہیں تھی۔ اس کی اپنی بس، اپنا سفر، اور اپنا آخری اسٹاپ سب سے انوکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زیادہ پڑھی جانے والی پوسٹس

اشتراک کریں

Facebook
Pinterest
LinkedIn
WhatsApp
Telegram
Print
Email